.جھنڈا نگر نیپال میں عید الفطر پورے جوش و خروش کیساتھ منائی گئی

کل بتاریخ يكم شوال١٤٤٣ ھجری مطابق 3/ مئی بروز منگل ہندوستانی سرحد سے متصل عالمی شہرت یافتہ مقام جھنڈا نگر نیپال (کرشنا نگر میں) روایتی جوش و خروش کیساتھ عید الفطر کی نماز دوگانہ ادا کی گئ۔
قابل ذکر ہے کہ کویڈ وغیرہ کے سبب چار سالوں کے بعد جھنڈا نگر کی عید گاہ میں نماز ادا کی گئی ہے
بنا بریں جھنڈا نگر کے نوجوانوں میں عیدگاہ کے تعلق سے زبردست جوش و خروش دیکھا گیا کہ انہوں نے عید گاہ کی صفائی و ستھرائی اور پینٹگ کے ذریعے عیدگاہ کو دلہن کی طرح سجا دیا تھا۔ بِسلری واٹر اور ساؤنڈ کا معقول انتظام تھا جس پر نوجوانان جھنڈا نگر بجا طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں خواتین اور بچوں میں بھی عید گاہ جانے کا بڑا جوش و جذبہ پایا گیا کرشنا نگر نگر پالیکا کی جانب سے باڈر روڈ کی دو رویا چونا کاری کی گئی تھی،
محترم ناظم اعلی کے ذریعے طلب کی گئی عوامی شوری کی میٹنگ میں تمام انتظامی فیصلے لیے گئے تھے
جس کے لیے محترم ناظم اعلٰی حضرت مولانا شمیم احمد صاحب ندوی حفظه الله عوامی شکریہ کے مستحق ٹہرے۔
عیدگاہ جھنڈا نگر مرد و خواتین اور بچوں سے تنگ ہوگئی تھی جس کی وجہ سے دوبارہ جماعت کرانی پڑی۔ صبح ساڑھے چھ بجے کا وقت موسم ابرآلود جس سے انتہائی سکون کا احساس ہو رہا تھا ہند و نیپال کے معروف عالم دین جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈا نگر نیپال کے شیخ الحدیث و شیخ الجامعہ شیخ خورشید احمد سلفی حفظه الله کی امامت میں نہایت ہی پرُسکون ماحول میں دوگانہ کی نماز ادا کی گئی۔
جس میں علاقہ و جوار کے معروف و مشہور ہستیوں کے علاوہ اہل توحید نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شیخ موصوف نے بھت ہی پُرتاثیر اور بلیغ خطبہ سے نوازا جس میں آپ نے فرمایا عید کا پیغام ہے کہ سارے لوگ میل و محبت اور بھائی چارگی کے ساتھ زندگی بسر کریں۔
آئیں!
بغض،کینہ،حسد،سے اپنے دلوں کو پاک کرکے اپنے بھائیوں کو گلے لگائیں اخیر میں امن عالم اور حرمین شریفین کی حفاظت اور عام مسلمانوں کی ترقی و خوشحالی کی پرسوز دعائیں مانگیں گئیں۔
عید کی نماز کے بعد اہل توحید ایک دوسرے سے ملتے ہوئے اور عید الفطر کی مبارک باد دیتے ہوئے خوش و خرم اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹے۔

प्रतिक्रिया

सम्बन्धित समाचार